پاکستان

بسنت کے تہوار کی 19 سال بعد پاکستان میں واپسی

Share

لاہور کی گلیوں کو دیکھنے سے ہی آپ کو پتا لگ جائے گا کہ بسنت لوٹ آئی ہے۔ کوئی بجلی کی تاروں سے پتنگ نکال رہا ہے، کہیں دور ڈھول کی تھاپ سنائی دے رہی ہے، اور جب آپ اندرون شہر کی تنگ گلیوں میں سر اٹھا کر دیکھتے ہیں تو آسمان پر رنگین دکھائی دیتا ہے۔ یہ جشن فضاؤں میں منایا جا رہا ہے۔

People on rooftops look up to the sky
،تصویر کا کیپشنپتنگیں اڑانے اور ان کے نظاروں کے لیے شہر بھر میں لوگ چھتوں پر جمع ہوتے ہیں

جیسے ہی سورج شہر کی فضاؤں میں نمودار ہوتا ہے، ہر چھت پر خاندان اور دوست دکھائی دیتے ہیں، ہنستے، شور مچاتے اور دیکھتے ہوئے کہ پتنگیں کس طرح آسمان میں دائیں بائیں جھولتی، چکر کاٹتی اور بلند پرواز کرتی ہیں۔

ابو بکر مجھے بتاتے ہیں کہ ’یہ واقعی مشکل ہے!‘۔

25 سالہ ٹیک انجینیئر کو یہ گُر ان کے کزن نے سکھایا ہے، جو ڈور کی ہلکی جنبش سے پتنگ کو اور بلند کرتے جا رہے ہیں۔

’ہم سب یہاں بہت پُرجوش ہیں، بزرگوں کو پتنگ اُڑانا آتا ہے، لیکن ہم جین زی والے نہیں جانتے۔‘

Abu Bakar Ahmad smiles looking directly at the camera, he has short black hair and a black beard. He is wearing a red shirt with the collar open at the top. He is pictured on what appears to be a rooftop, with the night's sky in the background.
،تصویر کا کیپشنابو بکر احمد پتنگ اُڑانا سیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔۔ کیونکہ ان کی زندگی کے بیشتر حصے میں بسنت پر پابندی رہی ہے

یہ تہوار تقریباً دو دہائیوں بعد لوٹا ہے۔ بہار کے آغاز کی علامت یہ جشن صدیوں پرانا ہے، لیکن 2007 میں اس پر پابندی لگا دی گئی تھی کیونکہ کئی برسوں تک تیز ڈور، گرنے اور ہوائی فائرنگ کے باعث زخمی اور ہلاکتیں ہوتی رہیں۔

اس کا مطلب ہے کہ یہ بہت سے لوگوں کے لیے یہ پہلا موقع ہے کہ وہ پتنگ اُڑا رہے ہیں، انھوں نے لاہور کے آسمان کو کبھی یوں نہیں دیکھا۔ جبکہ کچھ کئی برسوں بعد دوبارہ اپنی مہارت آزما رہے ہیں۔

48 سالہ کنول امین مجھے بتاتی ہیں کہ ’یہ میل جول ہے، یہ محبت ہے۔ پتنگ اُڑانا ٹھیک ہے، لیکن اصل چیز تعلق قائم کرنا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے یہ نظارا اور اچھی خوراک کھانا پسند ہے۔‘

Workers prepare traditional kites at a workshop ahead of the upcoming Basant festival in Peshawar, in Peshawar, Pakistan, 03 February 2026.

کاشف صدیقی پیشے کے اعتبار سے فارماسسٹ ہیں، مگر وہ مانتے ہیں کہ ان کی پتنگ اڑانے کی مہارت کچھ کم ہو گئی ہے۔ وہ مجھے اپنی آخری بسنت کی تصویریں دکھاتے ہیں۔۔ اُس وقت کاشف کا بیٹا تین برس کا تھا۔ اب ان کا بیٹا اپنے بچوں کے ساتھ یہاں موجود ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ لاہور والوں کے لیے خاص (تہوار) ہے۔۔ یہ ہمارے خون میں دوڑتا ہے۔ یہ صرف پتنگ اور ڈور کی بات نہیں، یہ روایت ہے۔ میرے والد اور ان کے والد بھی یہ کرتے تھے۔‘

Mina Sikander
،تصویر کا کیپشنمینا سکندر اس سنیچر کے آخر میں تہوار میں شریک ہونے کے لیے امریکہ سے لاہور آئی ہیں

کاشف کی 60 برس کی خالہ مینا سکندر بسنت منانے میامی سے یہاں آئی ہیں۔ وہ یہ موقع کھونا نہیں چاہتی تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے اس تہوار سے بہت لگاؤ ہے۔ یہ سفر بالکل قابلِ قدر تھا!‘

Crowds gather at a kite market in Peshawar, Pakistan, 03 February 2026.
،تصویر کا کیپشنتہوار سے چند روز پہلے پتنگوں کے بازار میں ہجوم

پتنگ بازی محض خوبصورتی کا ہی کھیل نہیں، بلکہ یہ ایک مقابلہ بھی ہوتا ہے کہ کس طرح مخالف کی پتنگ کو آسمان سے کاٹ کر گرایا جائے۔

یہی وجہ ہے کہ ڈور کو اور زیادہ تیز اور مضبوط بنانے کی دوڑ شروع ہوئی۔۔ کچھ ڈوریں پسا ہوا شیشہ لگا کر تیار کی گئیں، کچھ دھات یا کیمیائی مواد سے بنائی جاتی تھیں جو ٹوٹتی نہیں تھیں۔

ہر بسنت میں اموات ہوتی رہیں، جن میں بچے بھی شامل تھے۔ یہ خاص طور پر موٹر سائیکل سواروں کے لیے خطرناک تھا، جو سڑک پر تنی ہوئی ڈور میں پھنس کر اپنی گردن کٹوا بیٹھتے۔

جشن کے دوران ہوائی فائرنگ اور چھتوں سے گرنے کے واقعات بھی زخمیوں اور ہلاکتوں کا باعث بنتے رہے۔

Workers prepare kite-flying thread ahead of the upcoming Basant festival in Lahore, Pakistan, on January 31, 2026.
،تصویر کا کیپشنتہوار سے پہلے پتنگ بازی کی ڈور تیار کرنے میں کاریگر مصروف ہیں

تہوار کو محفوظ بنانے کی کوشش میں اب اسے صرف تین دن تک محدود کر دیا گیا ہے۔

موٹر سائیکل سواروں کو لوہے کی سلاخیں دی گئی ہیں جو ہینڈل کے درمیان اوپر کی طرف نکلی ہوئی ہیں، تاکہ اگر وہ کسی ڈور میں پھنس جائیں تو وہ ان کی گردن کے گرد نہ لپٹ سکے۔ بڑی پتنگوں پر پابندی ہے کیونکہ ان کے لیے زیادہ مضبوط ڈور درکار ہوتی ہے اور حکام کے مطابق اس سے خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کچھ گلیوں پر جال لگائے گئے ہیں۔ پچھلے برسوں میں دھاتی ڈوریں بجلی کی تاروں پر گر جاتی تھیں، جس سے انھیں پکڑنے والوں کو جھٹکا لگتا اور تاریں شارٹ سرکٹ کر جاتی تھیں۔

Artists play traditional drums next to a hoarding with portraits of Pakistan's former Prime Minister and leader of the Pakistan Muslim League Nawaz (PMLN) party Nawaz Sharif and his daughter and Chief Minister of the country's Punjab province Maryam Nawaz Sharif, as vendors sell kites to mark Basant Festival in Lahore on February 4, 2026.

تہوار کے باضابطہ آغاز سے قبل کسی کو پتنگ اُڑانے سے روکنے کے لیے، یکم فروری سے پہلے فروخت ہونے والی تمام پتنگیں ضبط کر لی گئیں، ساتھ ہی وہ ڈور بھی جو خطرناک سمجھی جاتی تھی۔

لاہور پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل فیصل کامران نے ہمیں وہ پتنگیں اور ڈور دکھائی ہیں جنھیں ان کی ٹیم نے ضبط کیا۔ ان کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ سے زائد پتنگوں اور 2,100 ڈور کے ’رولز‘ پر مشتمل ہے۔

ان کے اہلکار ڈرونز، موقع پر موجود پولیس اور دوبارہ نصب کیے گئے سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے آسمان اور چھتوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

Faisal Kamran in his police uniform stands in front of a brightly coloured table which is lined with confiscated kites and rolls of string
،تصویر کا کیپشنفیصل کامران اپنی ٹیم کے ہمراہ بسنت تہوار کے دوران آسمانوں پر نظریں گاڑے ہوئے ہیں

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ تمام کیمرے ہماری مرکزی سڑکوں کی نگرانی کر رہے تھے۔‘ لاہور کی چھتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس اچھا منظر ہے تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ کہیں کوئی ممنوعہ مواد یا ہتھیار استعمال تو نہیں کر رہا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ بسنت ختم ہونے کے بعد کیمرے دوبارہ سڑکوں کی طرف موڑ دیے جائیں گے۔

بہت سے لوگ امید کر رہے ہیں کہ یہ اقدامات کامیاب ثابت ہوں گے۔۔۔ خاص طور پر پنجاب حکومت، جس نے بسنت کو واپس لانے اور اس کے فروغ کا فیصلہ کیا ہے۔

A young girl in a purple dress is holding yellow coloured kite string, smiling and looking upwards at her kite in the sky. A man overlooking her is also smiling in the direction of her kite flying in the sky.

موچی گیٹ کی تنگ گلیوں میں گاہک اپنی کاغذی پتنگیں سر کے اوپر اٹھائے رکھتے ہیں تاکہ بھیڑ میں سے گزرتے ہوئے اور کبھی کبھار آہستہ چلتی موٹر سائیکل کے پاس سے نکلتے وقت وہ پھٹ نہ جائیں۔

پتنگ فروشوں میں سے ایک، عثمان، مجھے بتاتے ہیں کہ انھوں نے صرف چند دنوں میں سات ہزار سے زیادہ پتنگیں فروخت کی ہیں۔

People rush to buy kites and stringers as the authorities officially start sales for the upcoming spring Basant festival in Lahore, Pakistan, 01 February 2026.
،تصویر کا کیپشنیکم فروری کو فروخت شروع ہوتے ہی لوگ پتنگیں اور ڈور خریدنے کے لیے اُمڈ آئے

یوسف صلاح الدین کئی دہائیوں سے اس تہوار کے بڑے حامی اور وکیل رہے ہیں۔

سنہ 1980 کی دہائی میں انھوں نے پاکستان کی نمایاں شخصیات کو بسنت میں مدعو کیا اور میڈیا کو بھی کوریج کے لیے بلایا تاکہ اس کی شہرت بڑھے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ شہر کے لیے مالی طور پر بھی اہمیت کا حامل ہے۔

یوسف صلاح الدین کہتے ہیں کہ ’بہت زیادہ آمدنی ہوتی تھی اور وہ آمدنی سب سے غریب لوگوں تک پہنچتی تھی۔۔ دکانداروں، پرانے شہر کے ریستوران، کپڑے رنگنے والے، جوتے اور چوڑیاں بیچنے والے، سب اس سے مستفید ہوتے تھے۔

اور پھر ہوٹل مکمل طور پر بُک ہو جاتے تھے، اضافی پروازیں بھی آتی تھیں۔

Yousaf Salahuddin
،تصویر کا کیپشنیوسف صلاح الدین خوش ہیں کہ لاہور کے آسمان پر دوبارہ پتنگیں اُڑتی دکھائی دے رہی ہیں

یوسف صلاح الدین کی اس تہوار سے جڑی پہلی یادیں اُس وقت کی ہیں جب وہ خود پتنگ اُڑانے کی عمر کے نہیں تھے، بلکہ چھتوں پر دوڑتے ہوئے وہ پتنگیں پکڑتے تھے جن کی ڈور کٹ جاتی تھی۔

اس ہفتے کے آخر میں جب لاہور کے آسمان پر اتنی بڑی تعداد میں پتنگیں اُڑتی دیکھیں تو وہ جذباتی ہو گئے۔

’یہ (تہوار) ہمیشہ ہمارا حصہ رہا ہے، مجھے شہر پتنگوں کے بغیر یاد ہی نہیں۔‘

اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خود پتنگ اُڑانا چاہتے ہیں۔

یوسف صلاح الدین کا کہنا ہے کہ ’مجھ میں اب صبر نہیں، میں نے کل رات ایک پتنگ اُڑائی اور وہ کٹ گئی۔ تو میں نے کہا، اب اور نہیں ۔۔ بس ختم!‘